عیب گو

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - برائی بیان کرنے والا۔ "جن میں ہجو، بخیل، عیب گو، بیاہ رچاتے ہیں۔"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ٧٠٥:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عیب' کے ساتھ فارسی مصدر 'گفتن' سے صیغہ امر 'گو' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٩٧٥ء کو "تاریخ ادب اردو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - برائی بیان کرنے والا۔ "جن میں ہجو، بخیل، عیب گو، بیاہ رچاتے ہیں۔"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ٧٠٥:٢ )